سندھ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے 2016 کے فیصلے پر اپنا آرڈر جاری کردیا DG ایم ڈی اے سہل خان عرف بابو کو انکے عہدے سے فارغ کردیا یاد رہے سہیل خان پر کرپشن اور زمین کی بندر بانڈ اور لینڈ مافیا کے سرگنہ کے طور پر جانا جاتا ہے سہیل خان کلارک سے ڈی جی ایم ڈی اے بہت کم عرصے میں بنے انکی غیر قانونی ترقی کو ختم کر کے کے ایم سی واپس بھیج دیا ہے یاد رہے 2016 میں سپریم کورٹ کا بھی یہ فیصلہ آیا تو جسکے بعد دوبارہ اسکو DG ایم ڈی اے تعینات کیا گیا ہائی کورٹ میں سہل بابو پر کافی کیس چل رہے ہے کرپشن اور زمینوں پر قبضے کے کافی کیس ہیں جس میں سہیل بابو براہ راست ملوث رہا ہے ہائی کورٹ نے سہیل عرف بابو کو واپس KMC بھیج دیا سندھ گورنمنٹ کو پابند کردیا ہے سہیل بابو کی غیر قانونی تعیناتی کی حکم کو معطل کردیا ہے یاد رہے ایم ڈی اے میں سہیل خان عرف بابو نے تیسر ٹاؤن اسکیم 45 میں 2008 سے 2020 تک ایم ڈی اے کے کافی سیکٹرز پر قبضے کروائے اور رہائشی سیکٹر 11، 25′ 23، 31b، 37، 37a، 38، 549، 47، 45,93، 94 ،44 ,43
اور کمرشل سیکٹر کوریڈور نادرن بائی پاس سیکٹر، 38A,2B, 31A.55, 56, 57, 10 16, 24, میں کروائے جس میں MDA کی زمین پر چائنہ کٹنگ اور غیر قانونی سوسائٹی الاٹ کروائی اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ اور انٹی کرپشن اور نیب میں کافی کیس چل رے ہے اس کے باجود انکو ایم ڈی اے کا سربراہ بنا دیا گیا اور ہائی کورٹ نے اپنا حالیہ آرڈر میں انکو عہدے سے فارغ کردیا جو کے عوام اور الاٹیز کے ساتھ انصاف کیا ہے۔