Author Archives: Jafjournalist
Alliance of political dictators

By: Masood Hussain Jaffri (special thanks from international News Network)
The alliance of political dictators also proved to be a killer for the country and the nation.
Due to this unnatural union, the heads of the country and the nation bowed with infamy at the world level and a wave of great anger spread.
Perhaps the main reason for this is that this unnatural alliance consists entirely of criminal elements.
This political alliance includes all the parties that have been in power for a long period of time from generation to generation, commonly known as political dictatorship and monarchy.
The same was the case in 2010 and that time also the Chief Minister was Sindh Irrigation Minister. Even then there was a crack in the dam and even today after so many years there is a crack in it. It can be inferred that all the ministers are loyal to their party bosses instead of being loyal to the nation.
انسانی حقوق اور دستور امریکہ

ہم نے پہلے دستور پاکستان کے چند ایسے آرٹیکیلز تحریر کیے جو انسانی حقوق سے متعلق بنائے گئے مگر افسوس اس بات پر کہ ہر با اثر شخصیت ان قوانین سے انحراف کرتی نظر آتی ہیں باالخصوص ایسی خاندانی سیاسی جماعتیں جو عوام کو آئین کے درس دیتی نہیں تھکتی ان میں آئین قانون و دستور پر عمل کا کھلا فقدان پایا جاتا ہے۔ ایک جمہوری مملکت میں خاندانی سیاست کو آمریت اور ملوکیت سمجھا جاتا ہے مگر عرض پاک میں سیاست خاندانی آمریت سے شروع کی جاتی ہے جو نسل در نسل ملوکیت کا روپ دھار کر انسانی حقوق غضب کر لیتی ہے۔
امریکہ میں آسمانی حقوق کی پاسداری کے لیے ایسے قوانین ترتیب دیے گئے ہیں جس کی بدولت انسانی حیات کو مکمل تحفظ فراہم ہوتا ہے جیسا کہ
امریکی آئین لوگوں کو وسیع پیمانے پر حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور اس قانون پر سختی اور بلا روک ٹوک عمل کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب کانگریس پر پابندی عائد کی جاتی ہے کہ کانگریس کوئ قانون نہیں بنائے گی جس کی رو سے کسی مذہب کا قیام عمل میں آئے یا کسی مذہب پر عمل پیرا ہونے سے روکا جائے۔
تقریر اور پریس کی مکمل ازادی۔ آزادی اجتماع اور حکومت سے شکایت دور کرنے کی ضمانت آئین میں موجود ہے۔
کسی بھی شخص کو مقدمہ چلائے بغیر غداری کے الزام میں پھانسی کی سزا نہیں دی جاسکتی ۔کسی بھی شخص کو خودمختاری سے نہ تو قید کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مبحوس کیا جاسکتا ہے۔ بغاوت یا جنگ کے علاؤہ قیدی کو عدالت میں پیش کرنے کی درخواست کو رد نہیں کیا جاسکتا ہر ملزم مطالبہ کرسکتا ہے کہ اس پر آزادانہ
مقدمہ چلایا جائے۔
وہ دفاع کے لیے وکیل مقرر کرسکتا ہے اور عدالت شہادتیں قلمبند کرسکتیں ہیں۔ کسی شخثسے بہت زیادہ ضمانت کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ بغیر قانونی کارروائی کے کسی شخص کو زندگی، آزادی اور جائیداد سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ۔
کسی شخص کو ذات، رنگ، جنس یا گزشتہ غلامی کی وجہ سے ووٹ دینے سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔
آمد و رفت اور پیشہ انتخاب کی مکمل آزادی ہے۔ قانون ہر شخص کی مساوی حفاظت کرتا ہے۔ کسی بھی شخص کی جائیداد بغیر مناسب معاوضہ دیئے حکومت نہیں کے سکتی۔ لوگوں کو ہتھیار رکھنے اور کے کر چلنے کی اجازت ہے۔
کسی بھی ریاست کے لیے انسانی حقوق کو ترجیحات میں شامل کیا جاتا ہے مگر افسوس کہ عرض پاک میں انسانی حقوق کی پامالی اس طرح کی جاتی ہے جیسے انسانی حقوق اور انسانیت کا تعلق ہمارے ملک کے لیے ہے ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو چند ایسے افراد جو ملک و قوم پر مسلط کیے گئے ہیں صرف ان کے لیے تمام تر وسائل ہیں جس سے وہ قوم کی حق تلفی کرتے ہوئے اپنے لیے مخصوص کر لیں۔

Open violation

Open violation

Open violation

Against human rights

بین الاقوامی یونیورسل ڈیکلریشن اور دستور پاکستان میں ہر شخص کو جان ومال عزت وآبرو اور معاشرتی عدل وانصاف میں یکساں حق دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے بلکہ لازم کیا گیا ہے کہ قانون سب کے لیے ہو سب کو تحفظ فراہم کرے بلاامتیاز و تفریق رنگ و نسل علاقہ و زبان امیر و غریب قوی و کمزور حاکم و محکوم سوسائٹی میں نافذ العمل ہو تاکہ ہر شخص اپنے آپ کو محفوظ سمجھے۔
لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں عدل وانصاف کا فقدان ہے۔ دستور و قانون میں عدم وانصاف کو تحفظ فراہم ہے مگر عملاً سب اس کے برعکس ہے۔حاکم قانون سے مبرا و بالا تصور کیے جاتے ہیں۔ با اثر افراد خواہ سیاسی عناصر ہوں کہ مذہبی لسانی تنظیموں کے عہدیداران ہوں علاقائی تنظیموں کے اہلکار ہوں جاگیر دار ہوں کہ سردار پولیس ان لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی بلکہ اکثر و بیشتر پولیس ممبران ان کے آلہ کار بن جاتے ہیں اور جائز وناجائز تحفظ فراہم کر کے جرائم کی پردہ پوشی کرتے ہیں اور ان کے اشاروں پر چلتے ہیں جن صاحبان بھی ان طاقتوں سے خوفزدہ رہتے ہیں موجودہ مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کس طرح پنجاب میں ایک نام نہاد جرائم پیشہ خاندان نے جج صاحبان اور مقتدر حلقوں کو بلیک میل کر کے رکھا ہوا ہے۔

Check it now
Constitution

Open denial or confrontation of Articles 4, 10, 12, 13, 14 of the Constitution of Pakistan.
Under the Constitution of Pakistan, the right to justice of every person has been protected and it has been made clear that there will be justice in the society and its implementation will be equal for all without any discrimination so that law and order and rights can be protected in the society.
Article 4 of the Constitution states that it is the natural right of every person to be protected by the law and to be treated in accordance with the law and that no action shall be taken that would harm his or her life, property, honor, liberty or reputation. ۔ In addition, no person can be prevented from doing something that is not legally forbidden and cannot be forced to do something that is legally prohibited.
Article 10 stipulates that no person may be detained unless he has been given a reason for his arrest and is entitled to a lawyer of his choice in his defense.

In addition, the person arrested will be produced before a magistrate within 24 hours and will not be detained unless such legal order has been obtained from a relevant court.
Article 12 stipulates that if a person commits an act which has not been declared a crime at that time, he cannot be punished or given more than the prescribed punishment at that time.
Article 13 provides protection from the death penalty. That is, a person cannot be given more than one sentence for the same crime.
Article 14 makes it clear that a person cannot be tortured for a statement or confession, nor can he be forced to testify against himself.

