Author Archives: Jafjournalist

مملکت خداداد
غیرت کا تقاضا

عرض پاک میں یہ بڑی غلط روایت فروغ پا چکی ہے کہ اہلیت و قابلیت نہیں ہے مسائل کا کوئ حل نہیں مگر کرسی سے چمٹ کر رہنا گویا حق ہے بے شک ملک و قوم تباہ ہو جائے لیکن اقتدار سے ازخود عزت سے اپنی نااہلی کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے علیحدہ ہونا شاید گناہ کبیرہ میں سے تصور کیا جاتا ہو۔
پی۔ڈی۔ایم نے جس روز سے شب خون مارا ہے اور اغیار کے ہاتھوں اپنی بولی لگوائے اس مذموم حرکت کے اثرات انتہائی خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔
عرض پاک میں سیاستدانوں کی جس طرح تقسیم موجود ہے شاید دیگر ممالک میں نہ ہو۔ پاکستانی سیاستدانوں کی اکثریت بیرونی چھتری کی تلاش میں سرگرداں و سرگرم دیکھائی دیتی ہے۔ وجوہات کچھ بھی ہوں دیکھا یہ جاتا ہے کہ کس کیمپ کی افادیت زیادہ ہے اور کس کیمپ کی طاقت انہیں زیادہ سے زیادہ اقتدار میں رکھنے کی خواہشمند ہے۔ قومی مفادات سے بہرمند ہونے کے بجائے ذاتی وفاداری کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے زیادہ طاقت رکھنے والے کو کھل کر سجدے کرنا گویا ذاتی اقتدار کو مستحکم کرنا تصور کیا جاتا ہے۔
اتفاق سے سابقہ حکومت عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسے کیمپ میں جا بیٹھی جس کو یہ بات گوارا ہی نہ تھی کہ پاکستان میں خوشحالی ہو یا پاکستانی آزادانہ طور پر سامنے ائیں۔ پاکستان کو تین اطراف سے بہترین سپورٹ مل رہی تھیں جس کی وجہ سے بہت کچھ ہوسکتا تھا پاکستان خودمختاری کی جانب تیزی سے بڑھ رہا تھا۔
رجیم چینج کے لیے خرید وفروخت کھل کر کی گئ زر خرید مشینوں پر بھرپور پیسہ خرچ کیا گیا اور ملک و قوم کو ایک بار پھر اندھیرے گڑھے میں پھینک دیا گیا اور اب صورتحال سب کے سامنے ہے کہ رجیم چینج سے پیدا ہونے والے اثرات ملک و قوم کو لے ڈوبے۔ ذاتی مفادات کے لیے اقتدار حاصل کرنے والے بھاری رقومات کے آگے ڈھیر تو ہوگئے مگر ذلت ان کا مقدر بن گئ نہ صرف ان کا بلکہ ان کے سہولت کاروں کا بھی یہی حال ہوا۔ اگر فوری عام انتخابات کا اعلان نہیں کیا جاتا تو پھر سمجھ لینا چاہے کہ چاروں اطراف میں تباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ عوام نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے اور اتنی زیادہ سیاسی جماعتوں کا غیر فطری اتحاد بھی خود ان کے گلے پڑ چکا ہے جس کا خمیث بھی آئندہ آنے والے عام انتخابات میں لازمی بھگتنا ہوگا۔
غیرت کا تقاضا
Coronavirus
ایک بار پھر کرونا وائرس کی بازگشت سنائی گونج رہی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ایشائی ممالک میں یہ وائرس کہاں تک پھیلتا ہے اور اس کا سدباب کیا ہوتا ہے۔ اہم ترین اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں ایک مرتبہ پھر اس مہلک وائرس کا آغاز ہوچکا ہے متعدد کیسز سامنے آ کے ہیں۔
سعودی عرب میں کورونا کیسز میں دوبارہ اضافہ، یومیہ کیسز کئی ماہ بعد پہلی مرتبہ 1 ہزار کی سطح سے اوپر چلے گئے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں عالمی وبا کورونا وائرس کے کیسز میں دوبارہ سے واضح اضافہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں رواں سال فروری کے ماہ کے بعد پہلی مرتبہ 1 ہزار سے زائد یومیہ کورونا کیسز رپورٹ ہوئے۔
سعودی وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق مملکت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 1029کیسز رپورٹ ہوئے، یوں کورونا کا شکار ہونے والے مریضوں کی کل تعداد بڑھ کر 774250 ہوگئی ہے۔ وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 24 گھنٹوں کے دوران 616 مریض شفایاب ہوئے ہیں جبکہ تین کورونا مریضوں کی اموات کی تصدیق بھی کی گئی۔
سعودی عرب میں کورونا سے شفایابی حاصل کرنے والے مریضوں کی کل تعداد 756871 ہوگئی ہے جبکہ کورونا کے باعث اموات کی کل تعداد 9163 بتائی گئی ہے۔
سعودی وزارت صحت کے مطابق مملکت کے مختلف ہسپتالوں میں اس وقت 92 زیر علاج کورونا مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں رواں سال کے دوران کورونا وبا کا زور کافی حد تک کم رہا ہے۔ سعودی عرب کی آبادی کی اکثریت کی کورونا ویکسی نیشن مکمل ہو جانے کے باعث مملکت میں مہلک عالمی وبا کا پھیلاو اور شدت کنٹرول میں ہے، اسی باعث سعودی حکومت مملکت میں بیشتر کورونا پابندیوں کو ختم کر چکی۔ مملکت میں اس وقت بیشتر کورونا سفرین کاروباری اور سماجی پابندیوں کو ختم کیا جا چکا، تاہم حج سیزن کی آمد کے باعث احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جا رہی ہیں۔
God’s Meeting
God’s meeting
An old article I wrote a few months ago suddenly come to light. In which, presented some arguments to prove many things.
How God and prophet Moses talked. I had to read many books for that, including the Holy Bible.
The conversation between God and prophet Moses very interesting and amazing.
Moses said to the lord, you have been telling me, lead these people, but you have not let me know whom you will send with me.
You have said, I know you by name and you have found favor with me. If you are pleased with me, tech me, your ways so I may know you and continue to find favor with you.
Remember that, this nation is your people.
The lord replied, my presence will go with you and I will give you rest.
Then Moses said to him. If your presence does not go with us, don’t send us up from here. How will anyone know that you are pleased with me and with you people unless you go with us ?
What else will distinguish me and your people from all the other people on the face of the earth.
And the lord said to Moses, I will do thing you have asked, because I am pleased with you and I know you by name.
Then Moses said, now show me your glory.
And the Lord said, I will cause all my goodness to pass in front of you, and I will proclaim my name, the lord, in your presence, I will have mercy on whom, I will have mercy, and I will have compassion on whom I will have compassion, but, he said, you can’t see my face for no one may see me and live.
Then the Lord said, there is a place near me where you may stand on a rock. When my glory passes by, I will put you in cleft in the rock and cover you with my hand until I have passed by.
Then I will remove my hand and you will see my back, by my face must not be seen.

By: Masood Hussain Jaffri
لینڈ مافیا کا سرغنہ بر طرف
سندھ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے 2016 کے فیصلے پر اپنا آرڈر جاری کردیا DG ایم ڈی اے سہل خان عرف بابو کو انکے عہدے سے فارغ کردیا یاد رہے سہیل خان پر کرپشن اور زمین کی بندر بانڈ اور لینڈ مافیا کے سرگنہ کے طور پر جانا جاتا ہے سہیل خان کلارک سے ڈی جی ایم ڈی اے بہت کم عرصے میں بنے انکی غیر قانونی ترقی کو ختم کر کے کے ایم سی واپس بھیج دیا ہے یاد رہے 2016 میں سپریم کورٹ کا بھی یہ فیصلہ آیا تو جسکے بعد دوبارہ اسکو DG ایم ڈی اے تعینات کیا گیا ہائی کورٹ میں سہل بابو پر کافی کیس چل رہے ہے کرپشن اور زمینوں پر قبضے کے کافی کیس ہیں جس میں سہیل بابو براہ راست ملوث رہا ہے ہائی کورٹ نے سہیل عرف بابو کو واپس KMC بھیج دیا سندھ گورنمنٹ کو پابند کردیا ہے سہیل بابو کی غیر قانونی تعیناتی کی حکم کو معطل کردیا ہے یاد رہے ایم ڈی اے میں سہیل خان عرف بابو نے تیسر ٹاؤن اسکیم 45 میں 2008 سے 2020 تک ایم ڈی اے کے کافی سیکٹرز پر قبضے کروائے اور رہائشی سیکٹر 11، 25′ 23، 31b، 37، 37a، 38، 549، 47، 45,93، 94 ،44 ,43
اور کمرشل سیکٹر کوریڈور نادرن بائی پاس سیکٹر، 38A,2B, 31A.55, 56, 57, 10 16, 24, میں کروائے جس میں MDA کی زمین پر چائنہ کٹنگ اور غیر قانونی سوسائٹی الاٹ کروائی اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ اور انٹی کرپشن اور نیب میں کافی کیس چل رے ہے اس کے باجود انکو ایم ڈی اے کا سربراہ بنا دیا گیا اور ہائی کورٹ نے اپنا حالیہ آرڈر میں انکو عہدے سے فارغ کردیا جو کے عوام اور الاٹیز کے ساتھ انصاف کیا ہے۔
پی۔ڈی۔ایم کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں
پی۔ڈی۔ایم کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بچ اٹھیں۔۔ امپورٹڈ جعلی زبردستی کی مسلط کردہ حکومت خوف میں مبتلا۔
تحریک انصاف ملک کی سب سے مقبول سیاسی جماعت قرار، آج انتخابات ہونے کی صورت میں عوام کی اکثریت نے عمران خان کی جماعت کو ووٹ دینے کا فیصلہ سنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ(آئی پور) کے سروے نتائج جاری کر دیے گئے، جس کے مطابق عوام کی اکثریت تحریک انصاف کو ووٹ دینے کی خواہاں ہے۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کے حالیہ سروے کے دوران 29 فیصد عوام نے آج انتخابات ہونے کی صورت میں تحریک انصاف کو ووٹ دینےکا کہا، جبکہ 25 فیصد نے ن لیگ، 9 فیصد افراد نے پیپلز پارٹی، 3 فیصد نے جے یو آئی ف کو ووٹ دینےکا کہا، جبکہ 7 فیصد نےکسی کو بھی ووٹ نہ دینےکا کہا۔ یوں عوامی رائے کے مطابق تحریک انصاف اس وقت الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔
جبکہ دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق سروے کے مزید نتائج میں 54 فیصد پاکستانیوں نے ملک میں فوراً مڈٹرم انتخابات کروانے کی بھی حمایت کرنے کا کہا البتہ 35 فیصد نے اسمبلیوں کوآئینی مدت مکمل کرنے کا کہا۔ سروے کے مطابق مڈٹرم انتخابات کروانے اور اسمبلیوں کی آئینی مدت مکمل کرنے پر پی ٹی آئی اور ن لیگ کے ووٹرز کے مؤقف میں واضح فرق بھی نظر آیا۔
نئے انتخابات کروانے کے سوال پر 54 فیصد پاکستانی اس کی حمایت کرتے نظر آئے البتہ 35 فیصد نے اس کی مخالفت کی اور قومی اسمبلی کی آئینی مدت مکمل کرنے کی حمایت کرنے کا کہا۔پارٹی بنیادوں پر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کے 86 فیصد ووٹرز نے فوراًنئے انتخابات کروانے کی حمایت کرنے کا کہا جبکہ پی پی پی کے سپورٹرز میں 57 فیصد اور ن لیگ میں 31 فیصد نے نئے انتخابات کی حمایت کی۔
اس کے برعکس قومی اسمبلی کی آئینی مدت مکمل کرنے کی حمایت ن لیگ کے سپورٹرز میں 63 فیصد، پی پی پی کے سپورٹرز میں 39 فیصد جب کہ پی ٹی آئی کے سپورٹرز میں 11 فیصد نظر آئی۔ سروے کے مطابق 60 فیصد پاکستانیوں نے عمران خان کے لانگ مارچ کرنے کے آئیڈیے کو مسترد کردیا اور پی ٹی آئی کے سربراہ کو اسمبلیوں میں آکر جدوجہد کرنے کا مشورہ دیا البتہ 23 فیصد پاکستانی لانگ مارچ اور دھرنا دینے کی حمایت کرتے نظرآئے۔
پی ٹی آئی کے اپنے ووٹرز بھی لانگ مارچ کرنے کے فیصلے پر تقسیم دکھائی دیے، 48 فیصد نے لانگ مارچ کی حمایت کی تو 44 فیصد نے اسمبلیوں میں جدوجہد کرنے کو سپورٹ کیا۔ اپنے آپ کو پاکستان تحریک انصاف کے سپورٹرز کے طور پر شناخت کرنے والوں کی آراء اس سوال کے جواب میں بٹی ہوئی نظر آئی، 48 فیصد نے لانگ مارچ اور دھرنے کی حمایت کی تو 44 فیصد نے اسمبلیوں میں جاکر کوشش کرنے
کا کہا۔
